
طبی ماہرین کے مطابق پارکنسنز بیماری کا تعلق آنتوں سے بھی ہو سکتا ہے اور خوراک اس کے خطرے کو بڑھا یا کم کر سکتی ہے۔
تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ کافی اور چائے کا باقاعدہ استعمال پارکنسنز کے خطرے کو کم کرتا ہے جبکہ ڈیری مصنوعات خصوصاً مردوں میں خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔ اسی طرح زیادہ فائبر والی غذا بیماری کے امکانات کو کم کرتی ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ میڈیٹیریئن اور مائنڈ (MIND) ڈائٹ پارکنسنز کے آغاز کو مؤخر کر سکتی ہیں۔ ان غذاؤں میں سبز پتوں والی سبزیاں، پھل، دالیں، اناج اور زیتون کا تیل شامل ہیں جبکہ تلی ہوئی اشیاء اور میٹھے سے پرہیز کیا جاتا ہے۔
خواتین میں اس ڈائٹ پر عمل کرنے والوں میں بیماری اوسطاً 17 سال بعد ظاہر ہوئی۔
اس کے برعکس، الٹرا پروسیسڈ فوڈز جیسے فاسٹ فوڈ، چپس، میٹھے مشروبات اور پیک شدہ کھانے پارکنسنز کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق ایسے افراد میں بیماری کی ابتدائی علامات 2.5 گنا زیادہ ظاہر ہوئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کوئی دوا بیماری کی رفتار کو سست نہیں کر سکتی، لیکن ورزش اور صحت مند غذا مل کر خطرہ کم کرنے اور مریضوں کی زندگی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے بہتر علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔


