1576271 054933 updates

22875 191084722875

علامتی فوٹو
علامتی فوٹو

طبی ماہرین کے مطابق پارکنسنز بیماری کا تعلق آنتوں سے بھی ہو سکتا ہے اور خوراک اس کے خطرے کو بڑھا یا کم کر سکتی ہے۔

تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ کافی اور چائے کا باقاعدہ استعمال پارکنسنز کے خطرے کو کم کرتا ہے جبکہ ڈیری مصنوعات خصوصاً مردوں میں خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔ اسی طرح زیادہ فائبر والی غذا بیماری کے امکانات کو کم کرتی ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ میڈیٹیریئن اور مائنڈ (MIND) ڈائٹ پارکنسنز کے آغاز کو مؤخر کر سکتی ہیں۔ ان غذاؤں میں سبز پتوں والی سبزیاں، پھل، دالیں، اناج اور زیتون کا تیل شامل ہیں جبکہ تلی ہوئی اشیاء اور میٹھے سے پرہیز کیا جاتا ہے۔

خواتین میں اس ڈائٹ پر عمل کرنے والوں میں بیماری اوسطاً 17 سال بعد ظاہر ہوئی۔

اس کے برعکس، الٹرا پروسیسڈ فوڈز جیسے فاسٹ فوڈ، چپس، میٹھے مشروبات اور پیک شدہ کھانے پارکنسنز کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق ایسے افراد میں بیماری کی ابتدائی علامات 2.5 گنا زیادہ ظاہر ہوئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کوئی دوا بیماری کی رفتار کو سست نہیں کر سکتی، لیکن ورزش اور صحت مند غذا مل کر خطرہ کم کرنے اور مریضوں کی زندگی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔


نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے بہتر علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔



12282 139354412282

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *