1576949 063527 updates

22875 191084722875

کس عمر کو بڑھاپے کا باضابطہ آغاز سمجھا جاتا ہے؟ سروے رپورٹ

سائنسی طور پر 69 سال کی عمر کو باضابطہ طور پر بڑھاپے کا آغاز کیوں سمجھا جاتا ہے؟ اس حوالے سے 2,000 سے زائد برطانوی افراد پر کیے گئے ایک سروے کے مطابق لوگ 69 سال کی عمر کو ہی بڑھاپا سمجھتے ہیں۔ 

یہ نتائج 69 سالہ مشہور شخصیات جیسے ٹام ہینکس، کم کیٹرال اور اسٹیو ہاروی کے لیے بری خبر ہوگی۔ اس سروے کے لیے سیون سیز نامی ادارے نے ہزاروں برطانوی بالغ افراد سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان کے خیال میں بڑھاپا واقعی کب شروع ہوتا ہے۔ 

گزشتہ تحقیق سے یہ پتہ چلا کہ مختلف نسلیں بڑھاپے کو کس طرح دیکھتی ہیں، اس میں نمایاں فرق پایا گیا۔ 

پچھلی تحقیق میں یہ تجویز کیا گیا تھا کہ بڑھاپا 62 سال کی عمر سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ تاہم نئی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ کے لوگوں کے عمر کے بارے میں خیالات بدل رہے ہیں۔ 

صحت و تندرستی کی ماہر ڈونا برٹولی کے مطابق اگرچہ ہم بڑھاپے کے تصور کو مزید آگے دھکیل رہے ہیں، لیکن اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اب بھی ان عادات کو اپنانے میں تاخیر کر رہے ہیں جو ہمیں صحت مند انداز میں عمر بڑھانے میں مدد دیتی ہیں۔ اور اگر واقعی 69 سال کی عمر نیا بڑھاپا ہے، تو اپنی مستقبل کی صحت کا خیال رکھنے کا وقت بعد میں نہیں بلکہ ابھی ہے۔

ایک حالیہ سروے سے جس میں 4,000 افراد شامل تھے، پتہ چلا کہ جہاں1946 سے 1964 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد کے نزدیک بڑھاپا 67 سال کی عمر میں شروع ہوتا ہے، وہیں ان کی اولاد اور پوتے پوتیاں اس سے اتفاق نہیں کرتے اور اس سے کم عمر کو ہی بڑھاپے کا آغاز سمجھتے ہیں۔

جنریشن زیڈ کے مطابق سابق امریکی صدر اوباما کی اہلیہ مشیل اوباما، بریڈ پٹ اور لیزا کڈرو جیسی شخصیات جن کی عمر 62 سال کے لگ بھگ ہے، اب باضابطہ طور پر بڑھاپے کے زمرے میں آ چکی ہیں۔

ایک سروے میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ جنریشن زی سمجھتی ہے کہ 62 سال کی عمر میں لوگوں میں ذہنی تنزلی شروع ہوجاتی ہے، جبکہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی جدوجہد اس سے تین سال پہلے، یعنی 59 سال کی عمر میں شروع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص 56 سال کی عمر میں جدید فیشن میں اچھا نہیں لگتا۔ 

ایج ود آؤٹ لمٹس مہم کی شریک سربراہ کیتھرائن کراشا کہتی ہیں کہ عمر اور بڑھاپے کے بارے میں جو خیالات عام طور پر دیکھنے کو ملتے ہیں ان میں عمر بڑھنے کے بارے میں واقعی ایک تشویش پائی جاتی ہے اور یہ خوف ہماری بالغ زندگی کے کافی ابتدائی حصے سے ہی شروع ہو جاتا ہے کہ کسی خاص عمر تک پہنچنا کیسا ہوگا اور پھر جب ہم خود ان مراحل تک پہنچتے ہیں تو اکثر لوگوں کے لیے یہ خوف اور پریشانیاں حقیقت کے ساتھ کم ہو جاتی ہیں۔ 

ہماری پوری زندگی میں عمر کے بارے میں منفی اور عمر پرستی جیسے پیغامات کی بھرمار ہوتی رہتی ہے، حتیٰ کہ دس سال کے بچے بھی اینٹی ایجنگ میک اپ خریدنے کی خواہش رکھتے ہیں، جو لوگوں کو بڑھاپے کے بارے میں غیر ضروری طور پر منفی تصور دیتا ہے۔ اعداد وشمار کے تجزیے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جنریشن زی کے پانچویں حصے کو لگتا ہے کہ وہ جب بوڑھے ہوں گے تو اچھے نہیں لگیں گے۔



12282 139354412282

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *