
اینٹی بائیوٹکس عام طور پر بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہیں تاہم یہ جسم کے مفید بیکٹیریاز کو بھی متاثر کرتی ہیں جس کے باعث اسہال سمیت مختلف مضر اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق اینٹی بائیوٹکس کے عام مضر اثرات میں اسہال، متلی، الٹی، الرجی، ایسٹ انفیکشن اور دھوپ سے حساسیت شامل ہے۔
اینٹی بائیوٹکس کے استعمال سے اسہال کی شکایت اس لیے ہوتی ہے کیونکہ یہ ادویات آنتوں کے قدرتی بیکٹیریاز کے توازن کو بگاڑ دیتی ہیں۔
کیا دوا درمیان میں چھوڑنی چاہیے؟
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسہال کی صورت میں بھی اینٹی بائیوٹکس کا کورس ادھورا چھوڑنا مناسب نہیں ہے، ایسا کرنے سے انفیکشن مکمل ختم نہیں ہوتا، بیماری دوبارہ لوٹ سکتی ہے اور بیکٹیریا میں ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا ہو سکتی ہے۔
شدید علامات میں کیا کریں؟
اگر اسہال ہلکے ہوں تو پانی زیادہ پینا، متوازن غذا لینا اور ڈاکٹر کے مشورے سے پروبائیوٹکس کا استعمال کرنا مفید ہو سکتا ہے لیکن اگر درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
بار بار شدید دست، بخار، پیٹ میں درد اور پاخانے میں خون نظر آنا۔
اہم احتیاطی تدابیر
اینٹی بائیوٹکس ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں، مکمل کورس لازمی کریں، الرجی یا پرانے ردعمل سے متعلق ڈاکٹر کو آگاہ کریں، سائیڈ ایفیکٹس کے بارے میں پہلے سے معلومات حاصل کریں، بغیر مشورے کے اسہال روکنے والی دوا استعمال نہ کریں اور علامات میں تبدیلی پر فوری ڈاکٹر کو اطلاع دیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کے دوران اسہال ایک عام مسئلہ ہے لیکن علاج ادھورا چھوڑنا خطرناک ہو سکتا ہے، کسی بھی شدید علامت کی صورت میں خود فیصلہ کرنے کے بجائے فوری طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔


