
بھارتی ڈاکٹروں نے ایک نایاب اعصابی بیماری ’ہنسنے والی مرگی‘ (Laughing Epilepsy) میں مبتلا 4 بچوں کا کامیاب علاج کر کے ان کی زندگی بچا لی ہے، جدید اور کم تکلیف دہ دماغی طریقۂ علاج کے بعد تمام بچے لافنگ ایپی لیپسی کے دوروں سے مکمل طور پر محفوظ ہو گئے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اس بیماری کو طبی زبان میں ’جیلاسٹک سیزرز‘ (gelastic seizures) کہا جاتا ہے جس میں مریض کو بغیر کسی خوشی یا مزاح کے اچانک اور بے قابو ہنسی کے دورے پڑتے ہیں، یہ کیفیت دراصل دماغ میں غیر معمولی برقی سرگرمی کے باعث پیدا ہوتی ہے۔
’لافنگ ایپی لیپسی‘ کیا ہے؟
ڈاکٹروں کے مطابق یہ ایک نایاب قسم کی مرگی ہے جو اکثر دماغ کے حصے ہائپوتھیلمس میں موجود غیر سرطانی گلٹی، جسے ہائپوتھیلمک ہیمرٹوما کہا جاتا ہے، کی وجہ سے ہوتی ہے، یہ حصہ جسم کے اہم افعال جیسے ہارمونز اور جسمانی درجۂ حرارت کو کنٹرول کرتا ہے۔
متاثرہ بچوں کو روزانہ 10 سے 20 مرتبہ دورے پڑ سکتے ہیں جس سے تعلیم، سماجی زندگی اور ذہنی نشوونما شدید متاثر ہوتی ہے۔
ہنسنے والی مرگی کا علاج مشکل کیوں ہوتا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری پر عام مرگی کی ادویات اکثر اثر نہیں کرتیں، چونکہ دوروں کی اصل جگہ دماغ کے گہرے حصے میں ہوتی ہے اس لیے روایتی سرجری خطرناک اور پیچیدہ سمجھی جاتی تھی۔
جدید طریقۂ علاج کیا ہے؟
بھارتی ڈاکٹروں نے اسٹیریوٹیکٹک ریڈیو فریکوئنسی ابلیشن نامی جدید طریقہ استعمال کیا جس میں کمپیوٹر کی مدد سے دماغ میں مسئلے کی درست جگہ معلوم کی جاتی ہے، تقریباً 1 انچ چھوٹا کٹ لگا کر باریک آلہ داخل کیا جاتا ہے اور حرارت کے ذریعے بیماری پیدا کرنے والے ٹشو کو ختم کیا جاتا ہے۔
اس طریقے میں سر کی ہڈیاں کاٹ کر دماغ کی سرجری کی ضرورت نہیں پڑتی جس سے خطرات اور صحت یابی کا وقت کم ہو جاتا ہے۔
بروقت تشخیص کیوں ضروری ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ اس بیماری کی علامات غیر معمولی مگر بظاہر بے ضرر لگ سکتی ہیں اس لیے اکثر تشخیص میں تاخیر ہو جاتی ہے۔
بار بار دورے بچوں کی ذہنی نشوونما اور رویّے پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں اس لیے بیماری کی جلد تشخیص اور ماہرین سے رجوع انتہائی ضروری ہے۔


