
ایک عالمی جائزہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ تمباکو نوشی چھوڑنے کے لیے نکوٹین والے الیکٹرانک سگریٹ (ویپس) سب سے مؤثر طریقہ ثابت ہو رہے ہیں، تاہم ماہرین نے ان کے ممکنہ صحت پر خطرات کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2014ء سے 2023ء تک کے ڈیٹا کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ نکوٹین ویپس تمباکو چھوڑنے میں دیگر طریقوں جیسے پیچز، چیونگم، لوزینجز اور رویہ جاتی مدد کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہیں، جبکہ بغیر نکوٹین والے ای سگریٹ بھی کم مؤثر پائے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک نکوٹین پراڈکٹ کو دوسری سے بدلنا صحت کے مسائل کا مکمل حل نہیں ہے اور نکوٹین ویپس کو مکمل طور پر محفوظ نہیں کہا جا سکتا۔
امریکی ادارہ برائے امراض کنٹرول کے مطابق اگرچہ ویپس میں روایتی سگریٹ کے مقابلے میں کم نقصان دہ کیمیکلز ہوتے ہیں، تاہم یہ خطرات سے مکمل طور پر پاک نہیں ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق روایتی سگریٹ نوشی کینسر، میٹابولک بیماریوں، ذہنی تنزلی اور دیگر سنگین امراض کی بڑی وجہ ہے، جبکہ ویپس کے طویل مدتی اثرات پر تحقیق ابھی جاری ہے اور ان کی مکمل حفاظت کے حوالے سے حتمی رائے سامنے نہیں آئی۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔


