
آنکھ کا ایک بار یا بار بار پھڑکنا پٹھوں سے متعلق ایک عام مسئلہ ہے جسے طبی زبان میں آئی لِڈ مایوکیمیا (eyelid myokymia) کہا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پلکوں کے پٹھوں کی غیر ارادی اور بار بار ہونے والی حرکت ہے جو اکثر وقتی اور بے ضرر ہوتی ہے، اگرچہ متاثرہ شخص کو یہ زیادہ محسوس ہوتی ہے جبکہ دوسروں کو عموماً نظر نہیں آتی۔
آنکھ پھڑکنے کی 7 عام وجوہات
ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر کیسز میں یہ جسم میں کسی عدم توازن کا اشارہ ہوتا ہے جس کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں۔
1. ذہنی دباؤ اور بے چینی
زیادہ اسٹریس پٹھوں میں تناؤ پیدا کرتا ہے جو چہرے کے اعصاب کو متحرک کر کے پلک پھڑکنے کا سبب بن سکتا ہے۔
2. نیند کی کمی اور تھکن
ناکافی نیند یا شدید تھکاوٹ آنکھوں کے پٹھوں پر دباؤ ڈالتی ہے جس سے جھٹکے یا لہریں پیدا ہوتی ہیں۔
3. کیفین اور الکحل کا زیادہ استعمال
کافی، چائے، انرجی ڈرنکس یا الکحل اعصابی نظام کو حد سے زیادہ متحرک کر سکتے ہیں۔
4. آنکھوں پر دباؤ
زیادہ دیر تک اسکرین کا استعمال کرنا یا بغیر وقفے کے مطالعہ کرنا آنکھوں کی تھکن کا باعث بنتا ہے۔
5. غذائی کمی
میگنیشیئم، پوٹاشیئم یا وٹامن بی 12 کی کمی بھی پٹھوں کے کھنچاؤ سے جڑی ہوئی ہے۔
6. آنکھوں میں جلن یا خشکی
خشک آنکھیں، الرجی یا فضائی آلودگی بھی پلکوں میں غیر ارادی حرکت پیدا کر سکتی ہے۔
7. ادویات کے مضر اثرات
اعصابی نظام پر اثر انداز ہونے والی بعض ادویات کے نتیجے میں بھی آنکھ پھڑک سکتی ہے۔
سنجیدہ طبی وجوہات
اگر مسئلہ طویل ہو جائے تو یہ بعض نایاب بیماریوں کی علامت بھی ہو سکتی ہے جیسے کہ:
بینائن اسینشل بلیفروسپازم: دونوں آنکھوں کا بے قابو بند ہونا یا جھپکنا۔
ہیمی فیشل اسپازم: چہرے کے ایک حصے میں پھیلنے والی جھٹکوں کی کیفیت۔
اعصابی امراض: جیسے بیلز پالسی، ملٹی پل اسکلروسیس، پارکنسن بیماری یا ٹوریٹ سنڈروم۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
ماہرین کے مطابق درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو طبی مشورہ ضروری ہے:
آنکھ کا پھڑکنا 1 ہفتے سے زیادہ جاری رہے۔
آنکھ میں سوجن، سرخی یا رطوبت پیدا ہو جائے۔
آنکھ مکمل طور پر بند ہونے لگے۔
جھٹکے چہرے یا جسم کے دیگر حصوں تک پھیل جائیں یا بینائی میں تبدیلی یا دیگر غیر معمولی علامات ظاہر ہوں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر کیسز میں آرام، مناسب نیند اور کیفین کم کرنے سے مسئلہ خود ہی ختم ہو جاتا ہے تاہم مسلسل علامات کی صورت میں احتیاط ضروری ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔


