1568714 014127 updates

22875 191084722875

---فائل فوٹو
—فائل فوٹو 

ایک نئی سائنسی تحقیق کے نتائج میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ذیابیطس کے علاج میں استعمال ہونے والی معروف دوا میٹفارمن صرف خون میں شوگر کم نہیں کرتی بلکہ براہِ راست دماغ پر اثر انداز بھی ہوتی ہے جس کے بعد ماہرین نے اس کے طویل مدتی اثرات پر مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

تحقیق میں کیا سامنے آیا؟

سائنسی جریدے ’سائنس ایڈوانسز‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق میٹفارمن دماغ کے حصے ہائپوتھیلمس پر اثر ڈالتی ہے جو توانائی اور شوگر کے توازن کو کنٹرول کرتا ہے، دوا دماغ میں موجود ایک پروٹین ریپ 1 کو دباتی ہے، مخصوص اعصابی خلیات (ایس ایف 1 نیورونز) کو متحرک کرتی ہے اور اس کی دماغ میں معمولی مقدار بھی خون میں شوگر نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت حیران کُن ہے کیونکہ زیادہ تر ذیابیطس کی ادویات جگر یا لبلبے پر اثر کرتی ہیں، دماغ پر نہیں۔

ممکنہ خدشات

تحقیق کے بعد کچھ ممکنہ منفی اثرات پر بھی بات کی جا رہی ہے:

1. ذہنی کارکردگی پر اثرات

اس دوا کے استعمال سے جانوروں پر کی گئی تحقیق میں یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

اس دوا سے دماغی توانائی کی پیداوار میں تبدیلی دیکھی گئی۔

دوا کے باعث اے ٹی پی کی سطح کم ہونے سے دماغی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔

2. انسانوں میں ملے جلے نتائج

بعض مطالعات میں ڈیمنشیا کے خطرے میں کمی دیکھی گئی جبکہ کچھ تحقیق میں خاص طور پر عمر رسیدہ افراد میں ذہنی کارکردگی کی کمی رپورٹ ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دوا کے اثرات عمر، خوراک، صحت اور استعمال کے دورانیے پر منحصر ہو سکتے ہیں۔

میٹفارمن کے پہلے سے معلوم مضر اثرات

عام سائیڈ ایفیکٹس:

متلی اور اسہال، پیٹ میں تکلیف اور بھوک میں کمی۔

سنگین مگر کم پائے جانے والے خطرات:

اس دوا سے پیدا ہونے والی لیکٹک ایسیڈوسس کی صورتحال ایسی خطرناک حالت ہے جس میں جسم میں لیکٹک ایسڈ بڑھ جاتا ہے۔

وٹامن بی 12 کی کمی:

میٹمارفن کے طویل استعمال سے خون کی کمی اور اعصابی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کی ہدایات

طبی ماہرین کے مطابق مریض گھبرائیں نہیں کیونکہ میٹفارمن اب بھی ذیابیطس کی محفوظ اور مؤثر دوا سمجھی جاتی ہے تاہم دوا ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں، گردوں کے ٹیسٹ باقاعدگی سے کروائیں، وٹامن بی 12 کی سطح چیک کرواتے رہیں اور تھکن، الجھن یا یادداشت کے مسائل ظاہر ہوں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

طبی ماہرین کا تحقیق کے نتائج پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ نئی تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ میٹفارمن کے اثرات پورے جسم خصوصاً دماغ تک پھیل سکتے ہیں، اگرچہ فوائد اب بھی زیادہ ہیں لیکن سائنس دانوں کے مطابق اس دوا کے طویل مدتی دماغی اثرات پر مزید تحقیق ضروری ہے، مریض کسی بھی صورت دوا خود سے بند نہ کریں بلکہ طبی نگرانی میں علاج جاری رکھیں۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔



12282 139354412282

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *