1568036 012837 updates

22875 191084722875

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

رات کے اندھیرے میں اگر مچھر کاٹ لے تو یہ سوال ذہن میں لازمی آتا ہے کہ آخر مچھر انسان کو اتنے اندھیرے میں بھی کیسے تلاش کر لیتے ہیں؟

اب حال ہی میں مچھروں پر کی گئی ایک نئی تحقیق میں اس سوال کا جواب مل گیا ہے۔

جارجیا ٹیک اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محققین نے سیکڑوں مچھروں پر تحقیق کی اور 20 ملین ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ مچھر انسانوں کو تلاش کرنے اور ان پر حملہ کرنے کے لیے اشاروں کے ایک مجموعے کا استعمال کرتے ہیں۔

محققین نے مچھروں پر تحقیق کرنے کے لیے ایک ریاضیاتی ماڈل تیار کیا اور تھری ڈی انفراریڈ کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے مچھروں کا بہت غور سے جائزہ لیا تو یہ معلوم ہوا کہ مچھر بصری علامات اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بو کی مدد سے اپنے شکار کو تلاش کرتے ہیں۔

سائنس ایڈوانسز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق مچھر کبھی بھی ایک دوسرے کو فالو کرتے ہوئے ایک جگہ پر جمع نہیں ہوتے بلکہ ہر مچھر ماحولیاتی اشاروں پر آزادانہ ردِعمل دیتا ہے۔

محققین کو امید ہے کہ اس تحقیق کے نتائج کی مدد سے کیڑے مکوڑوں پر بہتر کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے اور خاص طور پر جب بات مچھروں کی ہو جو ملیریا، زرد بخار اور زیکا جیسی بیماریاں پھیلاتے ہیں اور یہ بیماریاں ہر سال 7 لاکھ سے زائد اموات کا سبب بنتی ہیں۔



12282 139354412282

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *