
دنیا بھر میں آج موٹاپے سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد موٹاپے کے بڑھتے ہوئے عالمی بحران کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا اور اس کی روک تھام و علاج کے لیے مؤثر حکمتِ عملیوں کو فروغ دینا ہے۔
ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کے مطابق رواں سال موٹاپے سے بچاؤ کے عالمی یوم کی مہم کا موضوع ’موٹاپے کے خلاف اقدام کی 8 ارب وجوہات‘ ہے۔
اس سال کی مہم اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ موٹاپے کے خلاف کارروائی کے لیے 8 ارب وجوہات موجود ہیں، یعنی ہر فرد، ہر کمیونٹی اور ہر نظام صحت مند مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس مہم میں حکومتوں، طبی ماہرین اور معاشروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مشترکہ ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صحت مند ماحول تشکیل دیں۔
موٹاپے میں اضافے کی وجوہات
دنیا بھر میں موٹاپے کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں غیر صحت بخش غذائی عادات، سست طرزِ زندگی، پراسیس شدہ غذاؤں کی آسان دستیابی اور مختلف ماحولیاتی عناصر شامل ہیں۔
سوشل میڈیا بھی کھانے پینے کی عادات اور طرزِ زندگی پر نمایاں اثر ڈالتا ہے، جو بالآخر جسمانی وزن پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔
سوشل میڈیا کے غذائی رجحانات موٹاپے کو کیسے بڑھا رہے ہیں؟
کھانے کی عادات پر اثرانداز:
طبی ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا نے ہماری خوراک، جسمانی ساخت اور وزن سے متعلق تصورات کو نمایاں طور پر بدل دیا ہے، ’آج میں نے کیا کھایا‘ جیسے وی لاگز، انفلوئنسرز کے میل پلانز اور وائرل ڈائٹ چیلنجز ہماری غذائی عادات پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں، فاسٹ فوڈ کے اشتہارات، بڑی مقدار میں پیش کیے جانے والے کھانے اور لذیذ تراکیب کی مسلسل نمائش غیر صحت بخش انتخاب کو معمول بنا دیتی ہے اور خوراک کی خواہش میں اضافہ کرتی ہے۔
سست طرزِ زندگی:
سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال جسمانی سرگرمی میں کمی کا سبب بھی بنتا ہے، گھنٹوں اسکرین پر مصروف رہنا وزن میں اضافے اور موٹاپے کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
غیر صحت بخش ڈائٹ رجحانات کی حوصلہ افزائی:
طبی ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ڈائٹ پلانز جیسے کیٹو، ڈیٹاکس کلینز، انتہائی وقفے وقفے سے فاقہ کشی یا صرف مائع غذا پر مشتمل منصوبے اکثر سائنسی بنیاد کے بغیر پیش کیے جاتے ہیں، پیشہ ورانہ نگرانی کے بغیر ان پر عمل کرنے سے غذائی کمی، بے قابو کھانے کی عادت یا خوراک کے ساتھ غیر صحت مند تعلق پیدا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کریش ڈائٹس فوری نتائج کا وعدہ کرتی ہیں، اگرچہ ابتدائی طور پر وزن میں کمی نظر آتی ہے، لیکن یہ زیادہ تر پانی اور عضلات کی کمی ہوتی ہے، نہ کہ چربی کی، جب جسم کو مناسب غذائیت نہیں ملتی تو وہ توانائی بچانے کے لیے میٹابولزم کی رفتار کم کر دیتا ہے، جیسے ہی معمول کی خوراک بحال ہوتی ہے، سست میٹابولزم تیزی سے چربی ذخیرہ کرنے کا باعث بنتا ہے، جس سے وزن دوبارہ بڑھ جاتا ہے۔
غیر حقیقی توقعات:
سوشل میڈیا پر جسمانی ساخت کے حوالے سے غیر حقیقی توقعات کو فروغ دیا جاتا ہے اور انتہائی دُبلی پتلی جسامت کو مثالی قرار دیا جاتا ہے، اس کے نتیجے میں کچھ افراد کھانے کے امراض، ڈائٹنگ اور جذباتی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں، جو طویل مدتی وزن کنٹرول میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
اگرچہ سوشل میڈیا گمراہ کن معلومات کا ذریعہ بن سکتا ہے، تاہم یہ مستند غذائی معلومات کی ترسیل، ماہرین سے رابطے اور پائیدار طرزِ زندگی اپنانے کے خواہش مند افراد کے لیے معاون کمیونٹیز کی تشکیل میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔


