ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں سپر ایٹ مرحلے کے آخری میچ میں پاکستان نے سری لنکا کو 5 رنز سے ہرادیا۔
ورلڈ کپ کپ سیمی فائنل میں پہنچنے کےلیے قومی بولرز کو سری لنکا کو 147 رنز تک محدود کرنا تھا، تاہم وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔
پالے کیلے میں کھیلا جانے والا یہ میچ سری لنکا کےلیے یہ صرف رسمی کارروائی تھی جبکہ پاکستان کےلیے بڑے مارجن سے فتح اسے سیمی فائنل تک پہنچا سکتی تھی۔
میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، جس کا پاکستانی اوپنرز فخر زمان اور صاحبزادہ فرحان نے دھواں دار اننگز کھیلتے ہوئے پہلی وکٹ پر 176 رنز بنا ڈالے۔
16ویں اوور میں فخر زمان 84 رنز کی عمدہ اننگز کھیل کر پویلین لوٹ گئے۔
پاکستان بڑے ہدف کی جانب گامزن تھا کہ پہلی وکٹ گرنے کے بعد بابر اعظم کے بغیر میدان میں اترنے والا قومی ٹیم کا مڈل آرڈر متاثر کن کاکردگی نہ دکھا سکا۔
وکٹ کی دوسری جانب موجود صاحبزادہ فرحان نے ورلڈ کپ میں دوسری شاندار سنچری بنا ڈالی۔ وہ 100 رنز بنا کر پویلین لوٹے جبکہ پوری پاکستانی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں پر 212 رنز بناسکی۔
دو اوپنرز کے علاوہ دیگر 6 کھلاڑی دہرے ہندسے میں بھی داخل نہ ہوسکے۔ خواجہ نافع 2، شاداب خان 7، شاہین آفریدی 4، نسیم شاہ 1، سلمان آغا اور محمد نواز صفر رنز پر آؤٹ ہوئے جبکہ عثمان خان 8 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔
ہدف کے تعاقب میں نپی تلی بولنگ کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ سری لنکا نے محتاط بیٹنگ کرتے ہوئے پہلے 147 کا مجموعہ عبور کرکے پاکستان کو ورلڈ کپ سیمی فائنل سے باہر کیا۔
بعدازاں سری لنکا کے کپتان داسن شناکا نے اختتامی لمحات میں شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے میچ اپنے حق میں کرنے کی کوشش کی۔ تاہم شناکا فتح سے 5 رنز دور رہ گئے۔
سری لنکا مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 207 رنز بناسکا، کپتان شناکا نے 31 گیندوں پر 76 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔ رتنانائیکے 58 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
پاکستان کی جانب سے ابرار احمد نے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ شاہین آفریدی، نسیم شاہ اور محمد نواز نے ایک ایک وکٹ لی۔
صاحبزادہ فرحان کو شاندار سنچری پرفارمنس پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
پاکستان ٹیم میں تین بڑی تبدیلیاں کی گئیں جہاں اسٹار بلے باز بابر اعظم، نمبر ون آل راؤنڈر صائم ایوب اور نوجوان سلمان مرزا کو ڈراپ کیا گیا ہے جبکہ ان کی جگہ پر خواجہ نافع، ابرار احمد اور نسیم شاہ کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔
قومی ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں میں کپتان سلمان علی آغا، صاحبزادہ فرحان، فخر زمان، عثمان خان، شاداب خان، محمد نواز، شاہین آفریدی اور عثمان طارق شامل تھے۔
سری لنکا کی ٹیم میں کوشل مینڈس کی جگہ پر کامل مشارا کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔ سری لنکن ٹیم کپتان داسن شناکا، پاتھم نسانکا، کامل مشارا، چریتھ اسلانکا، پاون رتنانائیکے، کمنڈو مینڈس، جنیتھ لیاناگے، دنتھ ویلالاگے، مہیش تھیکشنا، دشمانتھا چمیرا اور دلشن مدھوشنکا شامل تھے۔


