
وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے پر غور شروع کر دیا ہے۔
اس اقدام سے قومی خزانے کو 40 سے 50 ارب روپے کی ممکنہ بچت کا امکان ہے۔
وفاقی کابینہ نے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں کمیٹی کو ٹاسک دیا تھا اور سفارشات تیار کرنے کی ہدایت کی تھی کہ 10 روپے کا بینک نوٹ ختم کیا جائے یا نہیں؟
ذرائع کے مطابق وزیرِ خزانہ کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے کرنسی مینجمنٹ رپورٹ کابینہ کو بھجوا دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 10 روپے کا سکہ متعارف کروانے سے حکومت کو 40 سے 50 ارب روپے کی ممکنہ بچت ہو گی، اسٹیٹ بینک اور سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن قوانین کے تحت کرنسی مینجمنٹ رپورٹ تیار کی گئی ہے۔
آئی سی ایم اے رپورٹ کے مطابق 10 روپے کے نوٹ کی اوسط عمر صرف 6 سے 9 ماہ ہے جبکہ 10 روپے کے سکے کی اوسط عمر 20 سے 30 سال ہے، ملک میں ہرسال چھپنے والے مجموعی نوٹوں کا تقریباً 35 فیصد حصہ 10 روپے کے نوٹ پر مشتمل ہے۔
رپورٹ کے مطابق 10 روپے کا سکہ متعارف کرانے سے 10 سال میں کم از کم 40 سے 50 ارب روپے کی بچت ہو گی، 10 روپے کا نوٹ ختم ہو گا یا نہیں؟ فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی۔


