پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید محسن گیلانی نے کہا ہے کہ وہ برسوں کے بحران کے بعد فیڈریشن کو استحکام کی راہ پر ڈالنے اور ملک میں فٹبال کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا امید ہے اپنے ملک میں موجود فٹ بال اسٹیک ہولڈرز کی مدد سے پاکستانی فٹ بال کو ترقی دینے میں کامیاب رہے ہیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب میں نیشنل چیلنج کپ کےکامیاب اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پی ایف ایف کے سی او او شاہد کھوکھر، پی ایف ایف کے نائب صدر حافظ ذکاء اور سندھ فٹ بال کے صدر حاجی اعظم خان بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ جب سے میں نے عہدہ سنبھالا ہے، ہماری کوشش یہی رہی ہے کہ ایسے بہتر نظام قائم کیے جائیں جو ملک میں فٹبال کی ترقی کو یقینی بنائیں، پی ایف ایف کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ وہ فیڈریشن کے پہلے منتخب صدر ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس سے قبل پی ایف ایف کئی برس تک فیفا کی مقرر کردہ نارملائزیشن کمیٹی کے زیرِ انتظام رہا۔ اپنے انتخاب کے بعد پی ایف ایف کی چند اہم کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مردوں کی قومی ٹیم نے پہلی مرتبہ اے ایف سی فٹبال چیمپئن شپ کوالیفائرز میں شرکت کی۔
سید محسن گیلانی کے مطابق خواتین کی قومی ٹیم آئندہ فیفا سیریز میں حصہ لے گی جبکہ انڈر 16 ٹیم قازقستان کے دورے پر یوئیفا ڈیولپمنٹ ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گی۔
انہوں نے کہا ہمارا مقصد اپنی ٹیموں کو زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی تجربہ فراہم کرنا ہے اور ساتھ ہی بتایا کہ مردوں کی قومی ٹیم کے لیے بھی بین الاقوامی دوستانہ میچز کے انتظام پر کام جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پی ایف ایف کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے کہ قومی خواتین ٹیم اپریل میں فیفا سیریز کے دوران ترک و کیکوس آئی لینڈز، موریطانیہ اور آئیوری کوسٹ جیسی ٹیموں کے خلاف کھیلتے ہوئے ایک فیفا ایونٹ میں حصہ لے گی۔
اسی طرح ہماری انڈر 16 ٹیم کا قازقستان میں یوئیفا ایونٹ میں شرکت کرنا بھی ایک بڑا سنگِ میل ہے۔
پی ایف ایف کے صدر نے بتایا کہ ملکی سطح پر لیگ کے آغاز کے منصوبے پر کام جاری ہے اور سرکاری محکموں کی ٹیموں کی بحالی کے لیے حکومت سے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیلنج کپ ملک میں گھریلو سرگرمیوں کی بحالی کا پہلا قدم تھا، اور یہ کل کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا جس میں واپڈا چیمپئن بنی۔
محسن گیلانی نے کہا کہ ہم حکومت سے مزید محکمانہ ٹیموں کی بحالی کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ جہاں تک لیگ منصوبے کا تعلق ہے، اس میں بہت دلچسپی ظاہر کی گئی ہے اور ہم نے کچھ کمپنیوں کو ممکنہ شراکت داروں کے طور پر شارٹ لسٹ بھی کر لیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ فٹبال میں سرمایہ کاری سے بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئے گی۔لیگ کے آغاز سے پی ایف ایف کو آمدنی حاصل ہوگی جو ہمارے مالی مسائل کے حل میں مدد دے گی۔ ہم اب تک اپنے امور کے لیے زیادہ تر فیفا اور اے ایف سی کی مالی معاونت پر انحصار کرتے رہے ہیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی آمدنی کے ذرائع پیدا کریں، جس کا فائدہ ملک میں فٹبال کے انفراسٹرکچر کی بہتری کی صورت میں سامنے آئے گا۔
آخر میں سید محسن گیلانی نے بتایا کہ پی ایف ایف نچلی سطح پر فٹبال کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کر رہا ہے، جن میں پی ایف ایف انٹر اسکول چیمپئن شپ کا آغاز اور مختلف اضلاع میں فیفا کے منی پچز کی تنصیب شامل ہیں، انہوں نے کہا یہ منصوبے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ فٹبال کی سرگرمیاں نچلی سطح تک جاری رہیں۔


