1544316 021434 updates

22875 191084722875

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت ایک پیج پر ہے، یہ ہے ریاست کا بیانیہ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ بزور طاقت جیتیں گے۔ 

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہر صورت ہم نے جیتنی ہے، اس پریس کانفرنس کا واحد مقصد یہ ہے سال 2025 میں دہشت گردی کے اقدامات کا جامع احاطہ کیا جائے۔ 

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تاریخی اور نتیجہ خیز سال تھا۔ سال 2025 میں انسداد دہشت گردی کارروائی کی غیر معمولی تعداد میں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سال ریاست پاکستان اور عوام کے درمیان دہشت گردی پر مکمل ہم آہنگی حاصل ہوئی۔ دہشت گردوں کا پاکستان یا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں، گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف اقدامات کیے گئے، دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے۔

افغانستان خطے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا مرکز بنا ہوا ہے

انہوں نے کہا کہ افغانستان خطے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا مرکز بنا ہوا ہے، 2025 میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 75 ہزار 175 اٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے، روزانہ کی بنیاد پر گزشتہ سال 206 انٹیلی جینس بیسڈ آپریشن کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 آپریشن کیے گئے، دیگر پورے ملک میں گزشتہ سال میں 1 ہزار 739 آپریشن کیے گئے، گزشتہ سال ملک بھر میں دہشت گردی کے 5397 واقعات ہوئے جبکہ صرف خیبر پختونخوا میں 3811 دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے 2025 میں 1557 واقعات ہوئے، باقی ملک میں  29 دہشت گردی کے واقعات ہوئے، سال 2025 میں 2597 دہشت گرد مارے گئے۔ گزشتہ سال سب سے زیادہ دہشت گردی واقعات خیبر پختونخوا میں کیوں ہوئے، خیبر پختونخوا میں زیادہ دہشت گردی کی وجہ وہاں دہشت گردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔

 خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کے پی میں سیاسی طور پر سازگار سیاسی ماحول دہشت گردی کے لیے فراہم کیا جاتا ہے، ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے، ریاست کا دہشت گردی کے خلاف مؤقف واضح ہے، خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ2021 میں دہشت گردی نے سر اٹھانا شروع کیا،2021 میں 193 دہشت گرد جہنم واصل کیے گئے، 2021 میں افغانستان میں تبدیلی آئی، دوحہ معاہدہ ہوا۔ افغان گروپ نے دوحہ میں تین وعدے کیے، افغان گروپ نے وعدہ کیا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا، افغان گروپ نے وعدہ کیا کہ افغانستان میں عورتوں کی تعلیم یقینی بنائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے، تمام دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں، ان کی پرورش کی جا رہی ہے، دنیا نے پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے، پاکستان میں 2 دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز جاری ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ضروری ہے، خوارج کے بارے میں اللّٰہ کا حکم ہے کہ جہاں ملیں مار دو، یہ بالکل واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمیں جیتنی ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی ہندوستان کی سرپرستی میں ہوتی ہے

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ امریکا اور اتحادی فوج کے انخلاء میں افغان طالبان کا کوئی تعلق نہیں، افغان طالبان اپنی تنظیمی طرز پر ٹی ٹی پی کو تیار کرتی ہے، افغان طالبان وار اکانومی کو چلانے کے لیے دہشت گردی کو اسپانسرڈ کرتے ہیں، پاکستان میں دہشت گردی ہندوستان کی سرپرستی میں ہوتی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ امریکا اور اتحادی فوج کے انخلاء سے افغان طالبان کا کوئی تعلق نہیں، امریکا افغانستان میں 7 اعشاریہ 2 ارب ڈالر کا جدید ترین اسلحہ چھوڑ کر گیا، طالبان وہاں پر اپنی عملداری بنا رہے ہیں اور یہاں ان کی سیٹلمنٹ شروع ہوتی ہے، ان کے بارے میں کلیئرٹی سے بتایا جاتا ہے کہ یہ خوارج ہیں، جب ہم دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں یہ کہا جاتا ہے ان سے بات کریں۔ 

انہوں نے کہا کہ سوال کیاجاتا ہے کہ یہ 5397 تو بہت بڑی تعداد ہے، جی یہ بہت بڑی تعداد ہے، روزانہ کی بنیاد پر اتنے آپریشن کیے جاتے ہیں، کچھ چیزیں زندگی میں ایسی ہیں جن کے لیے لڑنا ناصرف ضروری ہے بلکہ جائز ہے، ہم دہشت گردوں کو ہر جگہ انگیج کر رہے ہیں۔

معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ معرکہ حق اور اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر جھڑپیں ہوئیں، معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا اور انہیں سبق سکھایا گیا۔ بھارت نے معرکہ حق کے بعد دہشت گردی کو خوب ہوا دی۔ ہندوستان نے نام نہاد سندور آپریشن میں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا ہونا دنیا بھر نے دیکھا، ہندوستان کون ہوتا ہے کہ ہمارے کسی شہری کو نشانہ بنائے، یہ حق ہندوستان کو کسی نےنہیں دیا کہ وہ پاکستان کے کسی شہری یا انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچائے، ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ پاک افغان بارڈر پر دہشت گردوں پر حملے کیے گئے، افغان طالبان رجیم نے پاکستانی پوسٹس پر حملہ کیے، پھر جو ضروری تھا وہ کیا گیا اور ایک ہارڈ میسیج دیا گیا، آخری تین مہینوں میں ہم نے بارڈر بند کر دیے، دیکھنے والوں اور سمجھنے والوں کے لیے یہاں بھی کئی نشانیاں ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اکتوبر 2025 میں دہشت گردوں پر پاک افغان بارڈر پر حملے کیے گئے، گھنٹوں میں درجنوں افغان پوسٹوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا، افغانستان میں انکلیوسو گورنمنٹ نہ ہونے سے دہشت گردی کو فروغ ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ کون کون دہشت گرد ہیں اور کہاں کہاں کس کو جگہ دے رہے ہیں، افغانستان میں کئی دہشت گرد تنظیموں کے سرغنہ اور تربیتی کیمپ موجود ہیں، بنیادی ٹارگٹ کون ہے، اس پر نظر ڈالیں تو دس بڑے واقعات نظر آتے ہیں، ان میں کون ملوث ہے؟ یہ تمام افغانی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے سویلین اور سافٹ ٹارگٹس پر حملے کیے، جعفر ایکسپریس حملے میں 21 سویلینز شہید کیے گئے، نوشکی میں سویلین بس پر حملہ کیا گیا، یہ تمام دہشت گردانہ حملے افغانیوں نے کیے۔ اے پی ایس وانا میں افغان دہشت گردوں نے اے پی ایس پشاور دہرانے کی کوشش کی۔

دہشت گرد سرحد پر جہاں نظر آتے ہیں، ڈھیر کر دیے جاتے ہیں

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس کا واقعہ پاکستانیوں کے ذہنوں سے کبھی نہیں جائے گا، ایف سی ہیڈ کوارٹرز کوئٹہ میں حملہ کیا جاتا ہے، اس میں تمام افغانی تھے، جس میں  8 سویلینز شہید ہوئے، نومبر میں ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور پر حملہ کیا گیا، یہ قوم کی جنگ ہے، ایک ایک بچے کی جنگ ہے، بیانیہ بنایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ فوج کی جنگ ہے۔ افغان رابطہ کے تناظر میں بہت سارے دہشت گردوں کے کاغذات بھی ملتے ہیں، دہشت گردوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے اور انہیں پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھیجا جاتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جو یہ بیانیہ بناتے ہیں کہ جو باڑ لگی ہے وہاں دہشت گرد کیوں نہیں مارے جاتے، بالکل مارے جاتے ہیں، اپریل میں 71 دہشت گرد مارے گئے، چیونٹیوں کی لمبی لمبی قطاروں کی طرح ان کی تشکیلیں آتی ہیں، حسن خیل میں 12 دہشت گرد مارے گئے، خارجی امجد کو بھی سرحد پار کرتے ہوئے مارا گیا، دہشت گرد سرحد پر جہاں نظر آتے ہیں، ڈھیر کر دیے جاتے ہیں۔



12282 139354412282

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *